البحث

عبارات مقترحة:

الخالق

كلمة (خالق) في اللغة هي اسمُ فاعلٍ من (الخَلْقِ)، وهو يَرجِع إلى...

البارئ

(البارئ): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (البَرْءِ)، وهو...

الحافظ

الحفظُ في اللغة هو مراعاةُ الشيء، والاعتناءُ به، و(الحافظ) اسمٌ...

عبادتوں میں بکثرت شک کا آنا
(اِسْتِنْكاحٌ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

عبادت میں انسان پر شک کا غلبہ ہوجانا اور بکثرت شک میں پڑنا۔

الشرح المختصر

غلبۂ شک کے لیے ”استنکاح“ کی تعبیر فقہاء میں سے صرف مالکیہ کے ہاں رائج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آدمی کو شک لاحق ہونا ایک قسم کی مصیبت و آزمائش ہے جس کی دواء یہ ہے کہ اسے جھٹک دیا جائے (یعنی اس پر توجہ کرنی ہی چھوڑ دی جائے)۔ استنکاح کی تعبیر کے استعمال کے لیے ان کے ہاں یہ اصول ہے کہ شک بکثرت پایا جائے، بایں طور کہ ہر وضوء، یا ہر نماز میں یا پھر دن میں دو یا ایک مرتبہ شک لاحق ہونے لگے۔ اگر شک ایک یا دو دن کے وفقے کے بعد ہوتا ہو تو پھر اس پر ’استنکاح‘ کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جب کہ دیگر فقہاء اس کیفیت کو غلبۂ شک اور کثرتِ شک کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔

التعريف اللغوي المختصر

اِسْتِنْکاح: غلبہ پانا اور گھل مل جانا۔ کہا جاتا ہے: ”اسْتَنْكَحَ النَّوْمُ عُيُوْنَهُمْ“ یعنی نیند ان کی آنکھوں پر غالب آ گئی، یعنی اونگھ آگئی۔