موضوع الخطبة: شروط شهادة أن محمدا رسول الله، ونواقضهاالخطيب : فضيلة الشيخ ماجد بن سليمان الرسي/حفظه اللهلغة الترجمة: الأردوالمترجم: شفاء الله إلياس التيمي (@Ghiras_4T)موضوع:شہادت محمد رسول اللہ کے شروط اور نواقضپہلاخطبہ:إن الحمد الله، نحمده ونستعينه،ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا،من يهده الله فلا مضل له،ومن يضلل فلا هادي له،وأشهد أن لا إله الإ الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسولهحمدوصلاةکےبعد:سبسےبہترینکلاماللہکاکلامہے،اورسبسےبہترینطریقہمحمدکاطریقہہے،سبسےبدترینچیزدینمیںایجادکردہبدعتیںہیں،اور(دینمیں)ہرایجادکردہچیزبدعتہے،اورہربدعتگمراہیہےاورہرگمراہیجہنممیںلےجانےوالیہے۔اےمسلمانو!اللہتعالیسےڈرواوراسسےخوفکھاؤ،اسکیاطاعتکرواوراسکینافرمانیسےبچو،اوریہذہننشیںکرلوکہمحمدکیرسالتکیگواہیدنیےوالوںکےلئےیہگواہیاسی وقت مفید ثابت ہوسکتی ہے جب اس کے ساتھ آٹھشرطیں پائی جاتی ہوں:۱- اسکےمعانیکوجاننااورسمجھنا، جس کا مطلب یہہےکہاسباتپرایمانرکھاجائےکہوہاللہکیجانبسے(بھیجےہوئے)حقیقیرسولہیں۔۲- دلسے اس پر یقینکرنا،جسکیضدشکوشبہہے۔اسکیدلیلاللہکایہ فرمانہے: (إنما المؤمنون الذين آمنوابالله ورسوله ثم لم يرتابوا)ترجمہ:مومنتووہہیںجواللہپر(پکا)ایمانلائیںپھرشکوشبہنہکریں۔٣-ظاہروباطنمیںاسکیپیرویکرنا،بایں طور کہ رسولاللہکیاطاعتکی جائے ،اتباعوپیریکیدلیلاللہ تعالیکایہفرمانہے: (ومن يسلم وجهه إلى الله وهو محسن فقد استمسك بالعروة الوثقى)ترجمہ: جو (شخص)اپنےآپکواللہکےتابعکردےاورہوبھینیکوکار تو یقینااسنےمضبوطکڑاتھاملیا۔۴- اس(کےمقتضیاتکو)قبولکرنا،جس نے شہادتِ محمد رسول اللہ کےلوازماتمیںسےکسیبھیجزء کا انکار کیا ‘ اس نے (اس شہادت کا) انکار کیا ۔۵-اخلاص کے ساتھ اس کی گواہی دینا،بایں طور کہاسکےقائلکامقصدصرف ایک اللہکاتقربحاصلکرناہو،جسکیضداسمیںشرککرناہے،اسطورپرکہشہادت محمد رسول اللہ سے دنیا کی کوئی غرض وغایت مقصودہوجیساکہمنافقینکاشیوہہے۔۶-صداقت وسچائی کے ساتھ (اس پر قائم رہنا) جسکیضدکذببیانیہے،اسکیدلیلاللہکایہفرمانہے: (ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين)ترجمہ: انلوگوںکوبھیہمنےخوبجانچایقینااللہتعالیانہیںبھیجانلےگاجوسچکہتےہیںاورانہیںبھیمعلومکرلےگاجوجھوٹےہیں۔نبیکریمنےفرمایاکہ"جوشخصسچےدلسےاسباتکیگواہیدےکہاللہکےسواکوئیمعبودنہیںہےاورمحمداللہکےسچےرسولہیں،اللہتعالیٰاسکو(دوزخکی) آگپرحرامکردیتاہے"۔۷-اسسےاوراسکےماننےوالوںسےمحبتکرنا،اوراسسےبغضوعنادرکھنےوالوںسےدشمنیکرنا۔۸-ان باتوں کاانکارکرنا جو اس کی منافی ہیں،شہادترسولکیمنافی باتیںبہتہیں،سب سے بڑی منافی چیز یہہےکہغیراللہکیعبادتکیجائے،جسکاانکار کرنا واجبہے، اور تمام تر عبادتوں کو صرف ایک اللہ کے خالص کرنا واجب ہے،جیساکہاللہتعالیفرماتاہے:(فمن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها)ترجمہ: جوشخصاللہتعالیکےسوادوسرےمعبودوںکاانکارکرکےاللہتعالیپرایمانلائےاسنےمضبوطکڑےکوتھاملیاجوکبھینہٹوٹےگا۔
اےمومنو!شہادت محمد رسول اللہ کےمنافی امورپانچہیں:
پہلیمنافی بات:مذکورہ بالا آٹھشرطوںمیںسےکسیایک کی یاایک سے زائدکیمخالفتکرنا۔دوسریمنافیبات:دینکے ایسےحصےکاانکارکرنا جو لازمی طور پر مشہور ومعروفہے،جیسےرسولاللہکینبوتیاآپکیبشریتکاانکار‘ یاامتمحمدیہپرآپکے جو حقوق ہیں ان کا انکار،یااسباتکاانکارکہآپخاتمالانبیاء ہیں،یایہانکارکرناکہآپکیرسالتسابقہشریعتوںکومنسوخکرنےوالیہے،یااسباتکا انکار کرناکہآپنے پورے دین کو (دنیا والوں تک) پہنچا دیا،یااسچیزکاانکارکہآپکیرسالتانسانوجناتکےلئےعامہے،یااسلامکےکسیرکن کا ،یاشراب،یاچوری،یازنااوراسطرحکے دیگر کبائر کی تحریم کاانکار۔شہادت محمد رسول اللہ کیتیسریمنافی بات:آپکیشخصیت پر طعن وتشنیع کرکے آپکوتکلیفدینا ‘ خواہ آپکیزندگیمیںہویاآپکیموتکےبعد،جیسےآپکیصداقت،یاآپکیفہموفراستیاآپکیعفت پر طعنوتشنیعکرنا،انتمامسےرسولاللہکیرسالتکیگواہیکاانکارلازمآتاہے، کیوں کہ یہ ایمانکےمنافی ہے‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآنمجیدکےاندر یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو (نبوت کے لئے) منتخب فرمایا تھا۔آپکوایذاءدینےوالوںکے کافر ہونے کیدلیلاللہکایہفرمان ہے: (إن الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا و الآخرة وأعد لهم عذابا مهينا) ترجمہ: جولوگاللہاوراسکےرسولکوایذاءدیتےہیںانپر دنیا وآخرتمیںاللہکیپھٹکارہےاورانکےلئےنہایترسواکنعذابہے۔طعنکہتےہیںرحمتسےدور کرنے کو،جسےاللہاپنیرحمتسےکردےوہکافرہیہوسکتاہے۔آپکیایذاءرسانیکیایکشکلآپکامذاقاڑانابھیہےخواہسنجیدگیکےساتھہو یا ہنسی مذاق میں۔آپکااستہزاءکرنےوالوںکے کافر ہونےکیدلیلسورہتوبہکےاندراللہکایہارشادہے: (وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ)ترجمہ: اگرآپانسےپوچھیںتوصافکہہدیںگےکہہمتویونہیآپسمیںبولرہےتھے۔کہہدیجیےکہاللہاسکیآیتیںاوراسکارسولہیتمہارےہنسیمذاقکےلئےرہگئےہیں،تمبہانےنہبناؤیقیناتماپنےایمانکےبعدبےایمانہوگئے۔شیخعبدالرحمانبنسعدیرحمہاللہاسآیتکیتفسیرمیںلکھتےہیں:اللہاوراسکےرسولکااستہزاء ومذاق اڑانا ایساکفرہےجودینسےخارجکردیتاہے، کیوں کہدینکی عمارت اللہ،اسکےدیناوراسرسولوںکیتعظیمپرکھڑیہے،انمیںسےکسیایککامذاق اڑانا اساصلکےمنافیاوراسکےحددرجہمخالفعملہے۔انتہیچوتھیمنافی بات:نواقضِاسلاممیںسےکسیایکمیںواقعہونا،جیسےاللہکیعبادتمیںشرککرنا،یایہاعتقادرکھناکہکوئیدوسراطریقہرسولاللہکےطریقےسےزیادہکاملہے،یاآپکےفیصلےسےکوئیدوسرافیصلہزیادہبہترہے،انلوگوںکیطرحجوطاغوتکےفیصلےکوآپکےفیصلےپرترجیحدیتےہیں،انحضراتکیطرحجوکمیونزم یاجمہوریتکواسلامی نظامِ (حکومت) پرترجیحدیتےہیں،توایساشخصکافرہے،یارسولاللہکیلائیہوئیکسیتعلیمسےبغضکرنا‘ یااللہکےدین،یااسکےثوابوعقابکامذاقاڑانابھیکفرہے،یا جادوجیسےعملمیںمنہمکہونا،یااللہکےدینسےاعراضکرنا (بھی کفر ہے) بایں طور کہ نہ تو اسے سیکھے اور نہ اس پر عمل کرے۔شہادترسولکیپانچویںاورآخری منافی بات:آپعلیہالصلاةوالسلامکیشانمیںغلوکرنا،اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی تعظیم میں حد سے تجاوز کیا جائے ‘آپنےاپنیزندگی میںاورحالتنزعمیںبھیاپنےتعلقسےلوگوںکوغلوکرنےسے سختی کے ساتھ منع فرمایااور روکا‘ تاکہ لوگ آپ کی شان میں غلو کرنے سے باز رہیں ۔امت کے تئیں آپ کتنے عظیم ناصح وخیر خواہ تھے، دسیوں احادیث میں آپ نے غلو سے منع فرمایا ہے،انمیںسےایکعمربنخطابرضیاللہعنہسےمرویحدیث بھی ہے،وہکہتےہیںکہمیںنےنبیکریمسےیہ فرماتے ہوئےسنا: "تملوگمجھےحددرجہمتبڑھاؤجسطرحنصارینےابنمریمکوبڑھادیا،میںبندہہوں،اسلئےتملوگمجھےاللہکابندہاوراسکارسولہیکہو"،اطراءکہتےہیں: تعریفمیںحد سےتجاوز کرنے کو۔اللہ مجھے اورآپ کو قرآنعظیم کی برکت سے فیض یاب کرے،مجھےاورآپکو اس کی آیاتاورحکمت پر مبنی نصیحت سے فائدہ پہنچائے‘ میںاپنییہباتکہتےہوئےاللہسےاپنےلئےاورآپکےلئےبخششکاطلبگارہوں،آپبھیاسسےبخششطلبکریں،یقیناوہتوبہواستغفارکرنےوالےکوخوب بخشنےوالاہے۔دوسرا خطبہ:الحمد لله وكفى، وسلام على عباده الذين اصطفى.حمد وصلاۃ کے بعد:آپ جان رکھیں-اللہ آپ پر رحم فرمائے –کہ نبی کی شان میں غلو کرنے کی دو قسمیں ہیں‘ ایک قسم دین اسلام سے خارج کردیتی ہے اور دوسری قسم اس سے ادنی درجے کی ہے۔
دین سے خارج کرنے والے غلو کی مثال: آپ کے لئے کوئی عبادت انجام دینا‘ جیسے آپ کو پکارنا‘ یا ربوبیت کی کوئی خصلت آپ کی طرف منسوب کرنا جیسے بارش نازل کرنے ‘ رزق بہم پہنچانے اور علم غیب رکھنے کی نسبت آپ کی طرف کی جائے‘ یہ سب باطل ‘ کفریہ اعمال اور آپ کی شان میں غلو آمیزی کے مظاہر ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: (قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ )
رہا وہ غلو جو دین اسلام سے خارج نہیں کرتا ہے اور اس کا شمار بدعت غیر مکفرہ میں ہوتا ہے ‘ توغلو کی یہ قسم بھی پہلی قسم کی طرف لے جاتی ہے‘ اس کی مثال : آپ کے جاہ کی قسم کھانا‘ یا آپ کی ذات کا وسیلہ پکڑنا‘ یا آپ کی ولادت کا جشن منانا‘ یا یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو اللہ نے نور سے پیدا فرمایا ہے‘ یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالی نے دنیا کو محض آپ کی خاطر ہی وجود میں لایا‘ آپ کی قبر (کی طرف) رخت سفر باندھنا‘ اس عمل میں بہت سے لوگ ملوث ہیں‘ اسے نیکی سمجھ کر انجام دیتے ہیں‘ جب کہ یہ بدعت ہے ‘ کیوں کہ یہ ایسے عمل کے ذریعے تقرب حاصل کرنا ہے جس کا شریعت نے حکم نہیں دیا ہے ‘ بلکہ اس سے منع فرمایا ہے‘ نبی کا ارشاد گرامی ہے: "تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی)کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے"۔
اس حدیث میں آپ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ دل میں مسجد نبوی کی طرف سفر کرنے کا ارادہ ہونا چاہئے نہ کہ قبر نبوی کی طرف‘ جس نے اپنے دل میں قبر نبوی کی طرف رخت سفر باندھنے کی نیت رکھی تو اس نے ایسے عمل کے ذریعہ تقرب حاصل کی جس پر شریعت نے آمادہ نہیں کیا ہے‘ بلکہ یہ عمل اسی پر لوٹا دیا جائے گا‘ قبو ل نہ کیاجائے گا‘ نبی کا ارشاد گرامی ہے:"جو شخص ایسا کام کرے جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے"‘ نیز آپ نے فرمایا: "اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے"‘ یعنی: اعمال کی قبولیت کا دار ومدار نیتوں پر ہے‘ اگر بندہ مسلم مسجد نبوی میں داخل ہو اور نماز ادا کرے تو اس کا یہ ارادہ پورا ہوجائے گا‘ اس کے بعد یہ درست ہوگا کہ وہ قبر نبوی کی زیارت کرے ‘ نبی اور آپ کے صحابہ (ابوبکر وعمر) پر سلام بھیجے‘ اس کے لئے یہ بھی درست ہوگا کہ وہ مسجد قبا جائے اور اس میں دو رکعت نفل ادا کرے‘ جیسا کہ نبی کیا کرتے تھے‘ اسے یہ بھی اجازت ہوگی کہ وہ مقبرہ بقیع کی زیارت کرے اور اس میں مدفون لوگوں پر سلام بھیجے‘ اسی طرح شہدا ء احد اور دیگر قبرستانوں کی زیارت کرنے کا بھی وہ مجاز ہوگا تاکہ عبرت ونصیحت حاصل کرے اور ان میں مدفون لوگوں پر سلام بھیجے۔
اے مسلمانو! نبی کی تعظیم کے تعلق سے لوگوں کی تین قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وہ شدت پسند اور بے راہ لوگ جو آپ کی حق تلفی کرتے ہیں اور آپ سے محبت ودوستی ‘ آپ کی اطاعت او رتعظیم وتوقیر کا جو واجبی حق ہے‘ اسے نہیں ادا کرتے‘ ان کی دو قسمیں ہیں:پہلی: وہ گناہ گار اور غافل لوگ جو آپ کی اطاعت سے منہ پھیرے رہتے ہیں۔دوسری: وہ غالی قسم کے بدعتی جو نبی کی تعظیم میں غلط طریقوں پر چلتے ہیں‘ جیسے غلو پسند روافض جو اپنے معصوم اماموں-بزغم خویش – کو نبی کو فضیلت دیتے ہیں‘ اسی طرح صوفیہ کا باطنی فرقہ جو اولیاء اور اقطاب کو نبی پر فوقیت دیتا ہے۔دوسری قسم: غلو کرنے والے لوگ‘ یہ پہلی قسم کے بر عکس ہیں‘ یہ لوگ آپ کو اس مقام سے بھی بڑھا دیتے ہیں جس پر اللہ تعالی نے آپ کو فائز کیا ہے‘ چنانچہ آپ کے لئے ایسے افعال انجام دیتے ہیں جو خالص اللہ کا حق ہے جیسے دعا ومناجات‘ نذ ر ونیاز اور ذبح کرنا وغیرہ ‘ یا آپ کو ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو خاص اللہ کی صفتیں ہیں‘ جیسے علم غیب وغیرہ‘ غلو کی یہ قسم قبر پرستوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔تیسری قسم: حق پرستوں کی ہے‘ جو درمیانی رویے کے حامل ہوتے ہیں‘ یہ آپ سے محبت وولایت کا رشتہ رکھتے ہیں‘ آپ کے شرعی حقوق کو ادا کرتے ہیں‘ آپ کی شان میں غلو آمیزی سے دور رہتے ہیں‘ اللہ ہمیں ان میں شامل فرمائے اور ان کے راستے پر ثابت قدم رکھے۔
نیز یہ بھی جان رکھیں-اللہ آ پ پر رحم فرمائے- کہ اللہ پاک وبرتر نے آپ کو ایک بڑی چیز کاحکم دیا ہے ‘ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے: (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)
ترجمہ:اللہتعالیاوراسکےفرشتےاسنبیپررحمتبھیجتےہیں،اےایمانوالو!تم(بھی)انپردرودبھیجواورخوبسلام(بھی)بھیجتےرہاکرو۔اےاللہ! تواپنےبندےاوررسولمحمدپررحمتوسلامتیبھیج،تو ان کے خلفائے کرام ،تابعینعظاماورقیامتتکاخلاصکےساتھان کی اتباعکرنےوالوںسےراضیہوجا۔اےاللہ!اسلاماورمسلمانوںکوعزتوسربلندیعطافرما،شرکاورمشرکینکوذلیلوخوارکر،تواپنےاوردیناسلامکےدشمنوںکونیستونابودکردے،اوراپنےموحدبندوںکیمددفرما،اےاللہ!توہمیںاپنےملکوںمیںسلامتیعطاکر،ہمارےاماموںاورہمارےحاکموںکیاصلاحفرما،انہیںہدایتکیرہنمائیکرنےوالااورہدایتپرچلنےوالابنا، اےاللہ! جوہمارے تئیں‘اسلاماورمسلمانوںکےتئیںبرائی کاارادہرکھےتواسےاپنیذاتمیںمشغولکردے،اوراسکےمکروفریبکواسکےلئےوبالجانبنا۔اےاللہ!مہنگائی‘ وباء،سود،زنا،زلزلوںاورآزمائشوںکوہمسےدورکردےاورظاہریوباطنیفتنوںکیبرائیوںکوہمارےدرمیانسےاٹھالے،خصوصیطورپرہمارےملکسےاورعمومیطورتماممسلمانوںکےملکوںسے،اےدونوںجہاںکےپالنہار! اےاللہہمسےبلا کودورفرما،یقیناہممسلمانہیں۔اے اللہ ! ہم سے وبا کو دور فرمادے‘ ہم مسلمان ہیں ‘اےہمارےرب!ہمیں دنیامیںنیکیدےاورآخرتمیںبھیبھلائیعطافرما،اورعذابجہنمسےنجاتبخش۔سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالميناز قلم: ماجد بن سلیمان الرسی۱۶ جمادی الآخر ۱۴۴۲ھشہر جبیل-مملکت سعودی عرب00966505906761ترجمہ: @Ghiras_4T