البحث

عبارات مقترحة:

المؤخر

كلمة (المؤخِّر) في اللغة اسم فاعل من التأخير، وهو نقيض التقديم،...

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

العليم

كلمة (عليم) في اللغة صيغة مبالغة من الفعل (عَلِمَ يَعلَمُ) والعلم...

شرح حديث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔

شرح الحديث :

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية