البحث

عبارات مقترحة:

الجبار

الجَبْرُ في اللغة عكسُ الكسرِ، وهو التسويةُ، والإجبار القهر،...

الغفور

كلمة (غفور) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) نحو: شَكور، رؤوف،...

التواب

التوبةُ هي الرجوع عن الذَّنب، و(التَّوَّاب) اسمٌ من أسماء الله...

عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ جب دعا کے لیے اپنے ہاتھ مبارک پھیلاتے تو انہیں اس وقت تک نہ لوٹاتے جب تک کہ اپنے چہرہ انور پر نہ پھیر لیتے۔

شرح الحديث :

اس حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ بندہ جب دعا سے فارغ ہو تو اس کے لیے مشروع یہ ہے کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے پر پھیر لے۔اس کی وجہ، واللہ اعلم، یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالی اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا چنانچہ گویا دعا کی برکت سے ان میں رحمت کا نزول ہوا ہوتا ہے اس لیے مناسب ہے کہ انہیں چہرے پر پھیر لیا جائے جو سب سے زیادہ قابل احترام عضو ہے اور سب سے زیادہ مستحقِ تکریم ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية