البحث

عبارات مقترحة:

العظيم

كلمة (عظيم) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعيل) وتعني اتصاف الشيء...

الغفور

كلمة (غفور) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) نحو: شَكور، رؤوف،...

المعطي

كلمة (المعطي) في اللغة اسم فاعل من الإعطاء، الذي ينوّل غيره...

شرح حديث جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی...

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو"۔ اور ایک روایت میں ہے: "جس نے اپنا غلام بیچا، اس (غلام)کا مال بیچنے والے کا ہو گا، الا کہ خریدار شرط لگا دے"۔

شرح الحديث :

’تابیر‘ (پیوندکاری) کا حق فروخت کنندہ کو حاصل ہے اور درخت کے پھل پر بھی یہی حکم عائد ہوگا۔ (یعنی وہ بھی فروخت کنندہ کا ہو گا) کیوں کہ اس پھل کے سبب یعنی پیوندکاری کو اسی نے سر انجام دیا ہے۔ سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے کہ پھل اس کا ہو گا۔ اگر کھجوروں کی پیوند کاری ہو چکی ہو اور فروخت کنندہ اس شرط کو قبول کر لے، تو فروخت کنندہ اور خریدار اپنے مابین طے شدہ شرط کے پابند ہوں گے (اور یوں پھل خریدار کا ہو جائے گا)۔ یہی حکم اس غلام کا ہے، جس کے ہاتھ میں اس کے آقا نے کچھ مال تھما رکھا ہو۔ اگر وہ اسے فروخت کر دے، تو اس کے ہاتھ میں موجود مال اس کے آقا کا ہوگا، جس نے اسے بیچا ہے۔ کیوں کہ عقد ِبیع میں یہ مال شامل نہیں۔ الا یہ کہ خریدار اس پورے مال یا اس کے کچھ حصے کی شرط لگا دے (کہ وہ بھی عقد میں شامل ہوگا)، تو وہ عقدِ بیع میں شامل ہو جائے گا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية