البحث

عبارات مقترحة:

الأكرم

اسمُ (الأكرم) على وزن (أفعل)، مِن الكَرَم، وهو اسمٌ من أسماء الله...

المجيد

كلمة (المجيد) في اللغة صيغة مبالغة من المجد، ومعناه لغةً: كرم...

الوهاب

كلمة (الوهاب) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعّال) مشتق من الفعل...

شرح حديث ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ...

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزِ قیامت اللہ ہر مسلمان کے حوالے ایک یہودی یا عیسائی کرے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے چھٹکارے کے لیے تیرا تاوان ہے‘‘۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے یہ گناہ معاف کر دے گا‘‘۔

شرح الحديث :

اس حدیث کا مفہوم وہی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ہر کسی کا جنت میں بھی ایک ٹھکانہ ہے اور جہنم میں بھی۔ مومن جب جنت میں جاتا ہے تو جہنم میں اس کی جگہ کافر چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے اس کا مستحق ہے۔ "فِکاک" کا معنیٰ یہ ہے کہ تو جہنم میں داخل ہونے والا تھا، اب یہ تیرا تاوان ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے لوگوں کی اتنی مقدار متعین کر رکھی ہے جو اسے بھر دے گی۔ جب کافر لوگ اپنے گناہوں اور کفر کی بدولت اس میں جائیں گے تو وہ گویا مسلمانوں کے لیے تاوان بن جائیں گے۔ واللہ اعلم۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية