البحث

عبارات مقترحة:

البارئ

(البارئ): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (البَرْءِ)، وهو...

الرب

كلمة (الرب) في اللغة تعود إلى معنى التربية وهي الإنشاء...

الإله

(الإله) اسمٌ من أسماء الله تعالى؛ يعني استحقاقَه جل وعلا...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتےاور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔ راوی کو شک ہے کہ صحابی نے خَفَضَ کا لفظ استعمال کیا تھا یہ غَضّ کا۔

شرح الحديث :

یہ حدیث چھینک سے متعلقہ آداب میں سے ایک ادب پر دلالت کرتی ہے، چھینکنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ چھینک نکالنے میں مبالغہ سے کام نہ لے اور نہ آواز ہی بلند کرے بلکہ آہستہ آواز سے چھینک نکالے اور جہاں تک ممکن ہو چہرے کو ڈھک لے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية