البحث

عبارات مقترحة:

السيد

كلمة (السيد) في اللغة صيغة مبالغة من السيادة أو السُّؤْدَد،...

المبين

كلمة (المُبِين) في اللغة اسمُ فاعل من الفعل (أبان)، ومعناه:...

الأكرم

اسمُ (الأكرم) على وزن (أفعل)، مِن الكَرَم، وهو اسمٌ من أسماء الله...

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو اور اس کی زبان قرآن مجید پڑھنے میں اٹک رہی ہو اور وہ نہ سمجھ رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے۔“

شرح الحديث :

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز میں نیند کے غلبے کی وجہ سے اگر انسان پر قرآن پڑھنا دشوار ہو جائے کہ اسے پتہ نہ چلے وہ کیا کہہ رہا ہے، تو اسے لیٹ جانا چاہیے، تاکہ اس کی نیند چلی جائے، کہیں وہ اللہ کے کلام کو تبدیل نہ کر بیٹھے اور کوئی ایسا جملہ نہ کہہ دے جس کا کہنا جائز نہیں جس سے معنی بالکل بدل جائے، کلمات میں تحریف ہو جائے اور بسا اوقات انسان اپنے لیے بددعا کر جائے۔ بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی نماز میں اونگھتا ہے تو اسے سو جانا چاہیے، تاکہ اسے معلوم ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے“۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية