البحث

عبارات مقترحة:

المهيمن

كلمة (المهيمن) في اللغة اسم فاعل، واختلف في الفعل الذي اشتقَّ...

الرحيم

كلمة (الرحيم) في اللغة صيغة مبالغة من الرحمة على وزن (فعيل) وهي...

العلي

كلمة العليّ في اللغة هي صفة مشبهة من العلوّ، والصفة المشبهة تدل...

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اپنے بعد تمھارے سلسلے میں جس بات کا اندیشہ ہے، وہ دنیا کی آرائش و زیبائش کے دروازوں کا کھلنا ہے“۔

شرح الحديث :

حدیث کا مفہوم: نبی اپنی امت کے سلسلے میں اس دنیوی چکاچوند اور زیب و زینت سے ڈرتے تھے، جس کے دروازے آپ کی وفات کے بعد عن قریب ان کے لیے کھل جانے والے تھے۔ یہ آپ کی اپنی امت کے ساتھ انتہائی درجے کہ رحمت و شفقت کی دلیل ہے کہ آپ کو ان کے بارے میں جس دنیوی زیب و زینت کا ڈر تھا، آپ نے اس کی وضاحت ان کے سامنے فرما دی؛ تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ ہدایت و فلاح اور نجات کے راستے سے بھٹک جائیں اور اچانک انھیں موت آ لے اور پھر ان کے پاس اس کے بعد کوئی عذر نہ رہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية