البحث

عبارات مقترحة:

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

الآخر

(الآخِر) كلمة تدل على الترتيب، وهو اسمٌ من أسماء الله الحسنى،...

شرح حديث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول...

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے اپنے دل میں خود کو بڑا جانا اور اِترا اِترا کر چلا وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر بہت غضبناک ہوگا‘‘۔

شرح الحديث :

یہ حدیث تکبر اور بڑائی کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ تکبر و بڑائی انسان کی چال میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ وہ اتراہٹ کے ساتھ چلتا ہے۔ اسی طرح اس کا اظہار اس کے لباس، گفتگو اور تمام امور میں ہوتا ہے۔ جس شخص کے تکبر کی یہ حالت ہو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک بڑا آدمی ہے جو دوسروں سے زیادہ تعظیم کا مستحق ہے۔ایسا شخص روز قیامت اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية