البحث

عبارات مقترحة:

الخلاق

كلمةُ (خَلَّاقٍ) في اللغة هي صيغةُ مبالغة من (الخَلْقِ)، وهو...

القاهر

كلمة (القاهر) في اللغة اسم فاعل من القهر، ومعناه الإجبار،...

الجميل

كلمة (الجميل) في اللغة صفة على وزن (فعيل) من الجمال وهو الحُسن،...

شرح حديث راوی کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پروں کے متعلق سوال...

عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے" راوی کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پروں کے متعلق سوال کیا؟ تو انھوں نے مجھے بتانے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں: لیکن مجھے آپ کےکسی صحابی نے بتایا : ‘‘بےشک پر مشرق و مغرب کے درمیان (واقع فضا کو گھیرے ہوئے) ہے‘‘۔

شرح الحديث :

نبی ﷺ نے جبریل کو جنت کے بالائی حصے میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ راوی نے عاصم بن ابی بہدلہ سے ان پروں کی ہیئت کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھیں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا۔ البتہ کسی صحابی نے انھیں بتایا کہ ہر پر اس قدر عظیم اور بڑا ہے کہ مشرق و مغرب کو گھیرے ہوئے ہے۔ دوسری صحیح احادیث میں بھی آیا ہے: ‘‘ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھرکم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا‘‘۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية