البحث

عبارات مقترحة:

الحي

كلمة (الحَيِّ) في اللغة صفةٌ مشبَّهة للموصوف بالحياة، وهي ضد...

الحليم

كلمةُ (الحليم) في اللغة صفةٌ مشبَّهة على وزن (فعيل) بمعنى (فاعل)؛...

الملك

كلمة (المَلِك) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعِل) وهي مشتقة من...

جمائی، جمائی لینا۔ (تَثاؤُبٌ)


التربية والسلوك أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


بغیر کسی ارادے کے انسان کا اونگھ یا سستی وغیرہ کی وجہ سے اپنا منہ کھولنا۔

الشرح المختصر :


’تثاؤب‘ بغير كسی ارادے اور اختیار کے انسان سے صادر ہونے والی ایک طبعی حرکت ہے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ معدہ میں پیدا ہونے والے بخارات کو خارج کرسکے۔ عام طور پر اس کا سبب سستی، اونگھ یا پیٹ کے بھرے ہونے یا جسم کے بھاری پن کے سبب ہوتا ہے۔

التعريف اللغوي المختصر :


التَّثاؤُبُ: سستی، اونگھ وغیرہ سے منہ کا کھلنا۔ ’تثاؤب‘ کی اصل ’ثأب‘ ہے جس کا معنی ہے سستی اور ڈھیلا پن۔