البحث

عبارات مقترحة:

الحق

كلمة (الحَقِّ) في اللغة تعني: الشيءَ الموجود حقيقةً.و(الحَقُّ)...

المؤمن

كلمة (المؤمن) في اللغة اسم فاعل من الفعل (آمَنَ) الذي بمعنى...

المنان

المنّان في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعّال) من المَنّ وهو على...

عبد الله بن زيد بن عاصم مازنی روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کرنا شروع کردیا اور اپنی چادر کو پھیر کر الٹ دیا۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جس میں آپ نے جہری طور پر قرأت کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ عید گاہ کی طرف گئے۔

شرح الحديث :

اللہ تعالی بہت سی آزمائشوں میں بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اس سے دعا کریں اور اس کو یاد کریں۔ نبی کے دور میں جب ایک دفعہ زمین خشک سالی کا شکار ہوگئی تو آپ لوگوں کو لے کر صحراء میں عید گاہ کے طرف نکلے تاکہ اللہ تعالی سے پانی کی دعا کریں اور اس طرح سے زیادہ عاجزی اور حاجت مندی کا اظہار کر سکیں۔ آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا جہاں سے دعاؤں کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ وہ مومنوں کی مدد کرے اور ان پر طاری قحط کو دور کرے۔ اور ان کی حالت کے خشک سالی سے شادابی اور تنگی سے کشادگی میں بدل جانے کے شگون کے طور پر آپ نے اپنی چادر مبارک کو ایک جانب سے دوسری جانب الٹ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں کو نمازِ استسقاء کی دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں جہری قرأت فرمائی کیونکہ یہ مجمع کی صورت میں ادا کی جانے والی نماز ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية