الخلاق
كلمةُ (خَلَّاقٍ) في اللغة هي صيغةُ مبالغة من (الخَلْقِ)، وهو...
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.*
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.*
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا* پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.**
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی*، انہوں نے بھی خطائیں کیں.
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا.*
جب پانی میں طغیانی آگئی* تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا.**
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں*، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں.**
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں* گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا.*
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے*، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.**
اس دن تم سب سامنے پیش کیے* جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا.
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا* کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.**
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے.*
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.*
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو.*
یہ کسی شاعر کا قول نہیں* (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے.
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے*، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو.**
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا.*
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں.